"جن کی قسمت میں کرائے کے مکاں ہوتے ہیں"(شاعری)

3 تعبيرية بدھ 3 جون‬‮ 0202 - (رات 01 بجکر 8 منٹ)

شیئر کریں:

"جن کی قسمت میں کرائے کے مکاں ہوتے ہیں"(شاعری) غزل ان کے چہروں پہ مسافت کے نشاں ہوتے ہیں جن کی قسمت میں کرائے کے مکاں ہوتے ہیں

وقت کے ساتھ اترتی ہیں نقابیں ساری ہوتے ہوتے ہی کئی راز عیاں ہوتے ہیں

تم نے سوچا ہے کبھی تم سے بچھڑ نے والے کیسے جلتے ہیں، شب و روز دھواں ہوتے ہیں

دور ساحل سے سمندر نہیں ناپا جاتا درد لفظوں میں بھلا کیسے بیاں ہوتے ہیں؟

کون آنکھوں میں چھپے کرب کو پڑھتا ہوگا لوگ اتنے بھی سمجھ دار کہاں ہوتے ہیں

پھول کھلتے ہیں نہ موسم کا اثر ہوتا ہے ہم بہاروں میں بھی تصویرِ خزاں ہوتے ہیں

میں نے ٹکڑوں میں بٹی آج بھی دیکھی عورت روح ہوتی ہی نہیں جسم جہاں ہوتے ہیں

شاعرہ: فوزیہ شیخ

(شہرِ سخن کی خوش فکر شاعرہ فوزیہ شیخ خوشاب میں پیدا ہوئیں، ایم اے تک تعلیم حاصل کی ہے، زبان و ادب سے لگاؤ انھیں شاعری کی طرف لے آیا، ان دنوں پنجاب کے شہر فیصل آباد میں مقیم ہیں)