’آنکھوں کا سرخ ہونا بھی کرونا کی علامت ہے‘

3 تعبيرية بدھ 25 مارچ‬‮ 0202 - (شام 7 بجکر 82 منٹ)

شیئر کریں:

’آنکھوں کا سرخ ہونا بھی کرونا کی علامت ہے‘ نیویارک: امریکی نرس کا کہنا ہے کہ کرونا وائرس کی دیگر علامات میں سے آنکھوں کا لال ہونا بھی ایک علامت ہے۔

رپورٹامریکی میڈیا رپورٹ کے مطابق واشنگٹن کے لائف کیئر سینٹر میں بطور نرس امور انجام دینے والی چیسلی ارنسٹ نے دعویٰ کیا کہ اگر کسی کی آنکھیں مستقل لال رہتی ہیں تو اُسے بھی کرونا کی تشخیص کا ٹیسٹ کروانا چاہیے۔

اُن کا کہنا تھا کہ آنکھوں کا لال ہونا کرونا وائرس کی واحد اور اہم علامت ہے کیونکہ جتنے بھی مریض اسپتال آئے ان سب کی آنکھیں سرخ تھیں اور انہیں نزلہ ، بخار کے ساتھ سانس لینے میں دشواری کا سامنا تھا۔

کرونا وائرس علامات ظاہر نہ ہونے کے باوجود منتقل ہوجاتا ہےمزید پڑھیں: کرونا وائرس علامات ظاہر نہ ہونے کے باوجود منتقل ہوجاتا ہے

طبی ماہرین اس سے قبل خشک کھانسی، نزلہ اور بخار اور سانس لینے میں دشواری کو کرونا کی علامات بتا چکے ہیں اور انہوں نے لوگوں کو خبردار بھی کیا کہ جس شخص کو یہ علامات ظاہر ہوں وہ فوری طور پر کرونا کی تشخیص کا ٹیسٹ کروائے۔

امریکی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے چیسلی کا کہنا تھا کہ ’مریضوں کی آنکھیں ایسی سرخ ہوتی ہے جیسے انہیں الرجی ہوگئی، اُن کی آنکھ کا سفید حصہ سرخ ہوتا ہے جو باقاعدہ نظر بھی آرہا ہوتا ہے‘۔

چیلسی نے یہ دعویٰ اُس وقت کیا کہ جب ماہرین کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ گلابی آنکھیں، سینہ جکڑنے جیسی عام بیماریوں میں مبتلا افراد ضروری نہیں کہ کرونا وائرس سے متاثر ہوئے ہوں۔

امریکن اکیڈمی کی جانب سے جاری تحقیقی رپورٹ میں بتایا گیا کہ ’اگر آپ کسی کی سرخ یا گلابی آنکھیں دیکھیں تو خوفزدہ نہ ہوں کیونکہ ضروری نہیں کہ وہ شخص کرونا وائرس سے متاثر ہو‘۔

کرونا کی علامت، سونگھنے اور ذائقے کی حس ختم ہوجاتی ہے، تحقیقیہ بھی پڑھیں: کرونا کی علامت، سونگھنے اور ذائقے کی حس ختم ہوجاتی ہے، تحقیق

صحت کے ماہرین بھی اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ آنکھوں کی رنگت سرخ یا گلابی ہونا، سینہ جکڑنے جیسی بیماریوں میں مبتلا تین فیصد افراد کرونا سے متاثر ہوسکتے ہیں۔