نشتر اسپتال میں ادویات اور ڈرپ کے بعد آکسیجن سلنڈر بھی نایاب

3 تعبيرية جمعہ 8 نومبر‬‮ 9102 - (دوپہر 1 بجکر 0 منٹ)

شیئر کریں:

نشتر اسپتال میں ادویات اور ڈرپ کے بعد آکسیجن سلنڈر بھی نایاب ملتان : جنوبی پنجاب میں طبی سہولتوں کے بحران نے مریضوں کو مزید مشکلات میں مبتلا کردیا ادویات، ڈرپ اسٹینڈ کے بعد آکسیجن سلینڈ بھی نایاب ہوگئے۔

تفصیلات کے مطابق جنوبی پنجاب کے شہر ملتان میں واقع سب سے بڑے نشتر اسپتال میں طبی سہولتوں کے فقدان نے غریب عوام کی کمر مزید توڑ دی، اسپتال میں دیگر طبی وسائل کے ساتھ ساتھ آکسیجن سلنڈر بھی نایاب ہوگیا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ نشتر اسپتال میں پیڈز میڈیسن ایمرجنسی میں زیر علاج 3، 3 بچوں کو ایک سلنڈر سے آکسیجن دی جارہی ہے۔

ذرائع کے مطابق ایک ہی سلنڈر سے تین تین بچوں کو آکسیجن فراہم انتہائی خطرناک ہے جو بچوں میں انفیکشن کا پھیلنے کا باعث بن سکتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق مریضوں کے لواحقین سلنڈر لگے اپنے بچوں کو گود میں لیے گھنٹوں کھڑے رہنے پر مجبور ہیں دوسری جانب بیشتر سلنڈرز میں آکسیجن ختم ہوچکی ہے جن کی بجٹ نہ ملنے کے باعث دوبارہ فلنگ نہیں کرائی جاسکی ہے۔

یاد رہے کہ رواں برس وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے  ملتان میں نشتر اسپتال فیز 2 کا سنگ بنیاد رکھتے ہوئے کہا تھا کہ ملتان کا نشتر اسپتال معیاری سہولتیں فراہم کررہا ہے۔

ان کا کہنا تاھ کہ منصوبہ ملتان کے لوگوں کے لیے ایک تحفہ ہے، نشتراسپتال کے فیز 2 کو بہت پہلے شروع کیا جانا تھا، ماضی کی حکومتوں کی غفلت کی وجہ سے منصوبہ تاخیرکا شکار ہوا۔

انہوں نے کہا کہ پہلے مرحلے میں 500 بستروں کا اسپتال بنایا جائے گا، نشتراسپتال 2 میں 120 بستروں پرمشتمل ایمرجنسی وارڈ بنایا جائے گا۔