بابری مسجد کیس کا فیصلہ، حکام نے اسکولوں میں جیلیں قائم کردیں

1 تعبيرية جمعہ 8 نومبر‬‮ 9102 - (دوپہر 2 بجکر 8 منٹ)

شیئر کریں:

بابری مسجد کیس کا فیصلہ، حکام نے اسکولوں میں جیلیں قائم کردیں نئی دہلی : بابری مسجد کیس کا فیصلہ بنانے سے قبل سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر بھارتی حکام نے اسکولوں میں بھی جیلیں قائم کردی۔

تفصیلات کے مطابق بھارتی سپریم کورٹ کا پانچ رکنی بینچ بابری مسجد، رام مندر زمینی تنازع سے متعلق کیس کا فیصلہ رواں ماہ 17 تاریخ سے پہلے کسی بھی وقت سنایا جائے گا۔

بھارتی خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ مذکورہ بینچ کی سربراہی چیف جسٹس راجن گگوئی کر رہے ہیں جن کی راجن گگوئی کی مدت ملازمت 17 نومبر میں ختم ہونے جا رہی ہے اور ایسی صورت حال میں ان کی جانب سے دی گئی کیس کی ڈیڈ لائن بہت زیادہ اہمیت کی حامل تھی۔

بھارتی میڈیا کا کہنا ہے کہ فیصلے سے قبل حکام نے سیکیورٹی خدشات کے باعث فیض آباد اور ایودھیا میں میں سیکیورٹی انتہائی سخت کردی ہے۔

بھارتی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے اس حوالے سے سیکیورٹی حکام سے ملاقاتیں بھی کی ہیں جبکہ حکام کی جانب سے اسکولوں میں بھی عارضی جیلیں بنادی گئی ہیں۔

بابری مسجد کیس کا فیصلہ 9 ماہ میں سنانے کا حکمبابری مسجد کیس کا فیصلہ 9 ماہ میں سنانے کا حکم

خیال رہے کہ بھارتی چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ اگر ہم نے 4 ہفتوں میں کیس کا فیصلہ سنا دیا تو یہ کسی معجزے سے کم نہیں ہوگا۔ سپریم کورٹ کے بینچ کی جانب سے بھی کہا گیا تھا کہ دیوالی کی چھٹیوں کو مد نظر رکھتے ہوئے فریقین اپنے دلائل 18 اکتوبر تک مکمل کرلیں۔

واضح رہے کہ بابری مسجد کی جگہ رام مندر تعمیر کرنے سے متعلق کیس میں فریقین کے مسئلے کے حل کے لیے کسی نقطے پر متفق نہ ہونے کے بعد 6 اگست کو سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کی سربراہی میں 5 رکنی بینچ قائم کیا گیا تھا۔