نیتن یاھو کی وادی اردن کواسرائیل میں ضم کرنے کے اعلان کی شدید مذمت

1 تعبيرية بدھ 11 ستمبر‬‮ 9102 - (صبح 7 بجکر 82 منٹ)

شیئر کریں:

نیتن یاھو کی وادی اردن کواسرائیل میں ضم کرنے کے اعلان کی شدید مذمت تل ابیب :اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو کے اس بیان کی عرب ممالک کی طرف سے شدید مذمت کی جا رہی ہے جس میں انہوں نے مقبوضہ مغربی کنارے کی وادی اردن کو صہیونی ریاست میں ضم کرنے کی بات کی ہے۔

تفصیلات کے مطابق ان کے اس بیان پرعرب ممالک کی طرف سے شدید رد عمل سامنے آیا ہے جب کہ بعض حلقوں نے اسے انتخابی پروپیگنڈہ قرار دیا ہے،نیتن یاہو نے ٹیلی ویژن خطاب میں کہا کہ ایک ہی جگہ ہے جہاں ہم انتخابات کے بعد ہی اسرائیلی خودمختاری کا اطلاق کرسکتے ہیں۔

اسرائیلی وزیراعظم نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مشرق وسطیٰ کے لیے امن منصوبے پراہم آہنگی کے باوجود انتخابات میں کامیابی کی صورت میں وہ غرب اردن کی یہودی کالونیوں کے اسرائیل میں الحاق کااعلان کریں گے۔

عرب لیگ کے سکریٹری جنرل احمد ابوالغیط نے کہا کہ عرب وزرائے خارجہ نے مقبوضہ مغربی کنارے کے حصوں کو اسرائیل میں ضم کرنے کے اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاھو کے منصوبے کی مذمت کی ہے۔

ابو غیط نے قاہرہ میں وزر خارجہ ایک روزہ اجلاس کے بعد صحافیوں کو بتایا مغربی کنارے کی سرزمین سے متعلق نیتن یاھو کے بیانات بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کی خلاف ورزی ہیں۔

اس کے نتیجے میں امن مساعی تباہ ہوسکتی ہیں۔اردن کے وزیر خارجہ ایمن صفدی نے اپنے رد عمل میں کہا کہ اسرائیلی وزیر اعظم کے اس اعلان سے واضح ہوتا ہے کہ وہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں غیر قانونی اسرائیلی بستیوں کو الحاق کرنے اور وادی اردن اور شمالی بحیرہ مردار پر اسرائیلی خودمختاری مسلط کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

اسے ایک خطرناک جارحیت سمجھا جائے گا جو امن عمل کی بنیادوں کو مجروح کرتا ہے اور پورے خطے کو تشدد اور تنازعات کی طرف دھکیلنے کا موجب بن سکتا ہے،تنظیم آزادی فلسطین پی ایل او کی ایگزیکٹو کمیٹی کے سکریٹری جنرل ، صایب عریقات نے کہا کہ نیتن یاہو کے اس اعلان سے امن کے کسی بھی امکان کو ختم کردیا گیا ہے۔

عریقات نے اپنے ٹویٹر اکاونٹ پر کہاکہ اگر الحاق پر عمل درآمد ہوتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ اگلے کم سے کم 100 سال تک امن کے کسی بھی امکان کو دفن کردیا جائے گا،فلسطینی تنظیم حماس نے اسرائیلی وزیر اعظم کے بیان کو انتہا پسندوں کے ووٹ حاصل کرنے کا ایک نعرہ قرار دیا۔

حماس کے ترجمان حازم قاسم نے کہاکہ نیتن یاھو ابھی بھی اس کوشش میں ہے کہ وہ فلسطینی سرزمین پر قبضہ برقرار رکھ سکتے ہیں۔ فلسطینی عوام اس وقت تک اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے جب تک کہ اس سرزمین سے غاصبانہ قبضہ ختم کرکے اپنی آزاد ریاست قائم نہیں کی جاتی۔