خانہ کعبہ میں کرین حادثے کے ملزمان کو بری کردیا گیا

3 تعبيرية بدھ 11 ستمبر‬‮ 9102 - (صبح 7 بجکر 0 منٹ)

شیئر کریں:

خانہ کعبہ میں کرین حادثے کے ملزمان کو بری کردیا گیا ریاض : فوجدار ی عدالت نے خانہ کعبہ میں کرین گرنے کے حادثے کے ملزمان بری کردیا گیا اور کہا بن لادن گروپ کے ملازمین کے خلاف کوتاہی یا غفلت برتنے کے ثبوت نہیں ملے اور ثبوت کے بغیر کسی کو ملزم نہیں ٹھہرایا نہیں جا سکتا۔

تفصیلات کے مطابق سعودی عرب کی فوجدار ی عدالت نے بیت اللہ میں تعمیراتی کام کے دوران وزنی کرین گرنے کے باعث 100 سے زائد افراد کی شہادت کی ذمہ دار کنسٹریکشن کمپنی بن لادن گروپ سے تعلق رکھنے والے ملزمان کو عدم ثبوت کی بناءپر بری کردیا۔

سعودی اخبار کے مطابق سعودی عرب کے فوجداری عدالت نے حرم میں کرین کے واقعے کی 9 ماہ تک مسلسل سماعت کے بعد کنسٹریکشن کمپنی سے تعلق رکھنے والے ملزمان کو عدم ثبوت کی بناءپر بری کرتے ہوئے فیصلہ سنایا کہ بن لادن گروپ کے ملازمین کے خلاف کوتاہی یا غفلت برتنے کے ثبوت نہیں ملے اور ثبوت کے بغیر کسی کو ملزم نہیں ٹھہرایا نہیں جا سکتا۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں متاثرین کو کمپنی کی جانب سے دیت اور معاوضہ دینے کے حوالے سے درخواست بھی مسترد کرتے ہوئے کہا مزید لکھا کہ افسوسناک واقعے میں شہید ہونے والوں کی دیت اور زخمی ہونے والوں کے معاوضے ادا کرنے سے متعلق مطالبہ پبلک پراسیکیوٹر کا استحقاق حاصل نہیں۔ یہ کمپنی اور متاثرین کے درمیان نجی معاملہ ہے اس لیے پبلک پراسیکیوٹر یہ مطالبہ پیش کرنے کا مجاز نہیں۔

عدالت نے پراسیکیوٹر کے موقف کو رد کرتے ہوئے فیصلے میں لکھا ہے کہ محکمہ موسمیات کا دعویٰ ہے کہ حادثے کے دن 32 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلنے والی ہوا سے کرین کے گرنے کا خطرہ ہے ، درست نہیں کیوں کہ کرین آپریشن گائیڈ میں واضح درج ہے کہ 70 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلنے والی ہواﺅں کا کرین پر کوئی اثر نہیں ہوگا۔

عدالت نے کہا کہ بلیک بکس سے حاصل ہونیوالی رپورٹ سے بھی بن لادن گروپ کے موقف کی تائید ہوئی ہے جبکہ وزارت خزانہ کی بن لادن کو امن و سلامتی کے تقاضوں کے تحت کرین ہٹانے کی درخواست پر کان نہ دھرنے پر بھی عدالت نے بن لادن کو کلین چٹ دیتے ہوئے کہا کہ اس قسم کا انتباہ جاری کرنا وزارت خزانہ کا دائرہ کار نہیں۔

عدالت نے فیصلہ دیا کہ فریقین کے دلائل اور شواہد کی روشنی میں ملزمان کو کرین حادثے کا ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جا سکتا چنانچہ قانون یہ ہے کہ جب تک کسی پر کوئی الزام ثابت نہ ہو اس وقت تک وہ بے قصور ہی مانا جاتا ہے۔

یاد رہے افسوسناک واقعے کی سماعت کے دوران بن لادن گروپ کے ملازمین کو 2 اکتوبر 2017 میں ہی بری کردیا گیا تھا جس پر پبلک پراسیکیوشن نے سپریم کورٹ میں اپیل دائر کر دی تھی، نئے فیصلے کے خلاف بھی 30 روز کے اندر اپیل دائر کی جا سکتی ہے۔ اگر اعتراض دائر نہ کیا گیا تو یہی فیصلہ نافذ ہوجائے گا۔

واضح رہے کہ 24 اگست 2015 کو حرم کی توسیع کے لیے جاری تعمیراتی کام کے دوران بن لادن گروپ کی 1 ہزار 350 ٹن وزنی کرین حاجیوں پر گر گئی تھی جس میں دب کر 110 افراد شہید اور 209 زخمی ہوگئے تھے۔