ایمازون جنگل کی ہولناک آتشزدگی میں طویل ترین درخت کیسے محفوظ رہے؟

5 تعبيرية بدھ 11 ستمبر‬‮ 9102 - (صبح 7 بجکر 11 منٹ)

شیئر کریں:

ایمازون جنگل کی ہولناک آتشزدگی میں طویل ترین درخت کیسے محفوظ رہے؟ زمین کے پھیپھڑوں کی حیثیت رکھنے والے برازیل کے بارانی جنگلات ایمازون میں لگنے والی آگ نے پوری دنیا کو تشویش میں مبتلا کردیا تھا، تاہم حال ہی میں ایک نئی دریافت نے ماہرین میں خوشی کی لہر دوڑا دی ہے۔

برازیلی اور برطانوی سائنسدانوں کی جانب سے کی جانے والی تحقیق میں سامنے آیا کہ ایمازون جنگل میں موجود طویل ترین درخت ہولناک آتشزدگی کے باوجود محفوظ رہے۔

یہ درخت جنہیں ڈینیزیا ایکسیلا کہا جاتا ہے، 288 فٹ طویل ہوتے ہیں جبکہ ان کا قطر 5.50 میٹر ہوتا ہے۔

ماہرین نے ان کی موجودگی ایریل سینسرز کے ذریعے کی جانے والی تحقیق کے دوران دریافت کی جو آتشزدگی کے بعد جنگلات کی تباہی کا جائزہ لینے کے لیے کی جارہی تھی۔

انہوں نے کہا کہ آتشزدگی سے ہونے والے نقصانات کے بعد ان درختوں کی دریافت ایک خوش آئند بات ہے۔ یہ درخت جنگل کے اس حصے میں موجود تھے جو آگ کی پہنچ سے دور تھا۔

اس وقت دنیا کے طویل ترین درخت امریکی ریاست کیلی فورنیا کے ریڈ ووڈز کو قرار دیا جاتا ہے جو 379 فٹ طویل ہوتے ہیں، تاہم ڈینیزیا ایکسیلا ایمازون میں پائے جانے والے طویل ترین درخت ہیں۔

خیال رہے کہ گزشتہ برس برازیل کے جنگل میں 78 ہزار 383 مرتبہ آگ لگنے کے واقعات پیش آئے جو 2013 کے بعد سے سب سے زیادہ ہیں۔

اگست 2019 میں لگنے والی آگ 2 ہفتے تک جاری رہی، ابتدائی اندازوں کے مطابق صرف 2019 میں ہونے والی آتشزدگیوں سے ایمازون کے 906 ہزار ہیکٹر پر موجود درخت جل کر خا ک ہوگئے ہیں۔