اقوام متحدہ میں مسئلہ کشمیر زیرِ بحث، پاکستان کیلئے ایک اور سفارتی کامیابی

3 تعبيرية جمعرات 6 اگست‬‮ 0202 - (صبح 7 بجکر 93 منٹ)

شیئر کریں:

اقوام متحدہ میں مسئلہ کشمیر زیرِ بحث، پاکستان کیلئے ایک اور سفارتی کامیابی اسلام آباد : وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ سیکیورٹی کونسل میں ایک سال میں تیسری بار مسئلہ کشمیر زیربحث آیا، یہ مباحثہ 5 اگست کے اہم دن منعقد ہوا ، جو پاکستان کیلئے ایک اورسفارتی کامیابی ہے۔

تفصیلات کے مطابق وزیرخارجہ شاہ محمودقریشی نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ مسئلہ کشمیر،سیکیورٹی کونسل میں ایک سال میں تیسری بارزیربحث آیا، یسا پہلے کبھی نہیں ہوا، بھارت نےکوشش کی کہ یہ مباحثہ نہ ہوپائےمگراسےناکامی ہوئی۔

وزیرخارجہ کا کہنا تھا کہ صدرسلامتی کونسل کوخط میں کہا ہے کہ مقبوضہ جموں وکشمیرکی صورتحال بگڑ رہی ہے ، بھارت نےپورےخطے کے امن و امان کو داؤ پر لگا دیا ہے ، صدرسلامتی کونسل سےدرخواست کی مسئلےکو فوری زیربحث لایاجائے، شکرگزارہوں میری درخواست کے 72گھنٹےکےاندراس پر سیر حاصل بحث ہوئی۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پندرہ میں سے 14 ممبر ممالک نے اس بحث میں حصہ لیا ، بھارت کےتاثرکی نفی ہوئی کہ یہ دوطرفہ یااندرونی مسئلہ ہے، سلامتی کونسل کےایجنڈےنےواضح کر دیا یہ عالمی نوعیت کا مسئلہ ہے ، 55برس کے بعد یہ مسئلہ تیسری مرتبہ سلامتی کونسل میں زیر بحث آیا،شاہ محمودقریشی

ان کا کہنا تھا کہ دیکھنے کی بات یہ ہے کہ یہ مباحثہ 5 اگست کے اہم دن منعقد ہوا ، یہ اللہ کےفضل و کرم سے پاکستان کیلئے ایک اور سفارتی کامیابی ہے ، میں پوری قوم کا شکرگزار ہوں کہ انہوں نے ہر سطح پر جلوس نکالے اور دورافتادہ علاقوں کے لوگوں نے بھی کشمیر کے باسیوں سے اظہار یکجہتی کیا۔

وزیرخارجہ نے کہا کہ سینیٹرز کا شکرگزارہوں متفقہ وزارت خارجہ کی قراردادکومنظورکیا ، چیئرمین سینیٹ کابھی شکرگزارہوں مختصروقت میں اجلاس کا انعقاد کیا اور صدرپاکستان کابھی ممنون ہوں کہ انہوں نےکھل کر اظہار خیال کیا۔

شاہ محمود قریشی کا مزید کہنا تھا کہ وزیر اعظم کل مظفرآبادتشریف لےگئے،قانون سازاسمبلی سےمخاطب ہوئے ، پاکستان کے نئے سیاسی نقشے کو بہت پذیرائی حاصل ہوئی ، کشمیر کے معاملے پر پوری قوم نے اتفاق کیا۔

انھون نے کہا کہ سینیٹ کا ماحول جذبہ حب الوطنی سے سرشار تھا، کشمیر کے مسئلے پر وزارت خارجہ میں سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کو مدعو کیا ، خواہش تھی کہ جے یو آئی ف کا وفد بھی ہمارے ساتھ شامل ہوتا ، فضل الرحمان توخود کشمیرکمیٹی کے چیئرمین رہے ہیں ، ان کو مسئلے کی نزاکت کا سب سے زیادہ علم تھا۔