الیکشن کمیشن کا این اے 249 سے متعلق بڑا فیصلہ

1 تعبيرية منگل 4 مئی‬‮ 1202 - (صبح 01 بجکر 8 منٹ)

شیئر کریں:

الیکشن کمیشن کا این اے 249 سے متعلق بڑا فیصلہ اسلام آباد: الیکشن کمیشن نے نون لیگی امیدوار مفتاح اسماعیل کی جانب سے حلقہ این اے 249 میں ووٹوں کی دوبارہ گنتی سے متعلق درخواست پر فیصلہ سنادیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق چیف الیکشن کمیشن کی سربراہی میں چار رکنی کمیشن نے مفتاح اسماعیل کی درخواست پر سماعت کی، فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد الیکشن کمیشن نے فیصلہ محفوظ کیا، جسے سنادیا گیا ہے۔

الیکشن کمیشن نے لیگی امیدوار مفتاح اسماعیل کی درخواست کو منظور کرتے ہوئے این اے249میں دوبارہ گنتی کا حکم دیا ہے، الیکشن کمیشن نے چھ مئی کو صبح نو بجے تمام فریقین کو آر او آفس پہنچنے کا حکم دیا ہے۔

ترجمان مسلم لیگ (ن) کا ردعمل

ترجمان مسلم لیگ (ن) مریم اورنگزیب نے الیکشن کمیشن کی جانب سے این اے 249 میں دوبارہ گنتی سے متعلق فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ فیصلے پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہیں، اپیل اور ہمیں سننےکے بعد الیکشن کمیشن نےدوبارہ گنتی کافیصلہ کیا، ہمیں امید ہے کہ دوبارہ گنتی ہوگی توہم ہی کامیاب ہونگے۔

سابق گورنر سندھ اور لیگی رہنما محمد زبیر نے بھی الیکشن کمیشن کے فیصلے کو بہترین قرار دیا، سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر جاری اپنے بیان میں محمد زبیر نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے ہمارا مطالبہ مانا، این اے 249 پر دوبارہ گنتی کی درخواست منظور ہونا اچھی خبر ہے۔

حلقے سے کامیاب امیدوار اور رہنما پیپلز پارٹی عبدالقادرمندوخیل نے الیکشن کمیشن کے فیصلے پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بلاول بھٹو نےکہا ن لیگ جیتتی تو مریم نوازکو خودمبارکباددیتا، چھ مئی کو دوبارہ گنتی میں بھی ہماری جیت ہوگی، ہمیں پوراا عتمادہےکہ ووٹ ہمیں ملےہیں۔

فیصلہ محفوظ ہونے سے قبل مسلم لیگ (ن) کی جانب سے سلمان اکرم راجہ اور پیپلزپارٹی کے وکیل لطیف کھوسہ نے دلائل دئیے، اس موقع پر حلقے سے کامیاب ہونے والے پیپلزپارٹی کے رہنما قادر خان مندوخیل اور نیئر بخاری بھی موجود تھے ۔

پیپلزپارٹی کے وکیل لطیف کھوسہ نے اپنے دلائل میں کہا کہ ن لیگ نے فارم 45 پراعتراض رات ڈھائی بجےہارنے کےبعدکیا،ن لیگ نےریٹرننگ افسر کا حکم چیلنج نہیں کیا، ریٹرننگ افسر نےقرار دیا کہ ن لیگ کی درخواست غیرمناسب ہے ٹھوس وجوہات نہ ہونے پر الیکشن کمیشن دوبارہ گنتی کاحکم نہیں دےسکتا۔

لطیف کھوسہ نے اپنے دلائل میں کہا کہ کسی ایک پولنگ اسٹیشن سےدھاندلی کی ایک شکایت نہیں آئی، پولنگ کے روز حلقے میں سابق وزیراعظم ،سابق گورنر اور دیگرکی فوج ظفرموج موجود تھی، دوبارہ گنتی چاہتےہیں توٹھوس استدلال دیناہوگا۔

پی ایس پی کے وکیل کے دوران سماعت اپنے دلائل میں کہا کہ الیکشن کمیشن کیس کو پی پی اور ن لیگ تک محدود نہ رکھے،پیپلزپارٹی کراچی میں ایم کیو ایم بننے جا رہی ہے،دوبارہ گنتی کی درخواست کاحلقہ کے عوام کو فائدہ نہیں جس پر چیف الیکشن کمیشن نے کہا کہ فی الحال دوبارہ گنتی کی درخواست سن رہے ہیں، کوئی اور درخواست دینا چاہتے ہیں تو الگ سےدیں، آپ سنجیدہ ہوتے تو آج تک درخواست دے چکے ہوتے، ہم پہلے ہی واضح کرچکے کہ کسی قسم کی بے ضابطگی برداشت نہیں کریں گے۔

این اے 249: ضمنی الیکشن کا میدان پیپلز پارٹی نے مار لیایہ بھی پڑھیں: این اے 249: ضمنی الیکشن کا میدان پیپلز پارٹی نے مار لیا

سماعت کے دوران کالعدم ٹی ایل پی کے نمائندے بھی الیکشن کمیشن میں پیش ہوئے اور اپنے دلائل میں کہا کہ ضمنی انتخاب کے روز پولنگ اسٹیشنز سے ہمارے پولنگ ایجنٹس کو زبردستی باہر نکالا گیا، اس موقع پر کالعدم ٹی ایل پی نے گلی سے ملا ہوا بیلٹ پیپر الیکشن کمیشن میں پیش کیا تھا۔

واضح رہے کہ تیس اپریل کو شہر قائد میں انتخابی حلقے این اے 249 کا ضمنی انتخاب کا میدان پاکستان پیپلز پارٹی نے اپنے نام کیا تھا، غیر حتمی نتائج کے مطابق پیپلز پارٹی کے قادر خان مندو خیل 16 ہزار 156 ووٹ لے کر کامیاب قرار پائے تھے، مسلم لیگ (ن) کے مفتاح اسماعیل 15 ہزار 473 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے، جب کہ کالعدم تحریک لبیک پاکستان کے مفتی نذیر 11 ہزار 125 ووٹ لے کر تیسرے نمبر پر رہے تھے۔