کابل میں صدارتی محل پر راکٹ حملہ؛ طالبان کا بڑا بیان آگیا

37 تعبيرية بدھ 21 جولائی‬‮ 1202 - (دوپہر 3 بجکر 83 منٹ)

شیئر کریں:

کابل میں صدارتی محل پر راکٹ حملہ؛ طالبان کا بڑا بیان آگیا طالبان نےنمازعید کےدوران افغان صدارتی محل پر ہونے والے راکٹ حملوں سے اظہار لاتعلقی کر ‏دیا۔

ترجمان افغان طالبان سہیل شاہین نے کہا ہےکہ صدارتی محل کےقریب راکٹ حملوں میں ہمارا ہاتھ ‏نہیں ہم مسئلےکاسیاسی حل چاہتےہیں۔

سہیل شاہین نے کہا کہ افغان فورسز کے اہلکار ہمارے ساتھ شامل ہوئے ہیں جب کہ افغان مذاکرات ‏کار نےطالبان کا دعوی غلط قرار دے دیا ہے۔

بھارتی میڈیا کے مطابق طالبان نے افغان فورسز کے ساتھ والی شدید جھڑپوں میں بھارتی صحافی ‏دانش صدیقی کے قتل سے بھی اظہار لاتعلقی کیا ہے۔

طالبان کے اہم کمانڈر مولانا یوسف احمد سے ٹیلیفونک گفتگو کرتے ہوئے بھارتی میڈیا نے لکھا کہ ‏طالبان نے دانش صدیقی کے قتل میں ملوث ہونے کے الزام کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم نے ‏صحافی کو قتل نہیں کیا وہ ہمارے دشمنوں کی طرف تھا اور جب کوئی بھی صحافی آتا ہے تو وہ ‏ہم سے بات کرتا ہے اور ہم مسلسل صحافیوں سے رابطوں میں رہتے ہیں۔

کابل میں نمازِ عید کے دوران صدارتی محل کے قریب راکٹ حملے کیے گئے، منگل کی صبح ہونے ‏والے ان راکٹ حملوں کی ذمہ داری داعش نے قبول کر لی ہے۔

افغانستان کی وزارت داخلہ کے ترجمان میرویس ستانکزئی نے کہا کہ راکٹ محل کے باہر گرین زون ‏میں تین مختلف مقامات پر گرے، کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، حملے کی تحقیقات کر رہے ہیں۔