سعودی عرب کو اس کا حق لوٹایا ہے: عبدالفتاح السیسی

19821 تعبيرية ہفتہ 16 اپریل‬‮ 6102 - (رات 01 بجکر 25 منٹ)

شیئر کریں:

سعودی عرب کو اس کا حق لوٹایا ہے: عبدالفتاح السیسی مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی نے بحر احمر میں واقع تزویراتی اہمیت کے حامل دو جزیروں کو سعودی عرب کے حوالے کرنے کے فیصلے کا دفاع کیا ہے اور کہا ہے کہ مصر نے سعودی عرب کو اس کا حق لوٹایا ہے اور وہ اپنے کسی علاقے سے دستبردار نہیں ہوا ہے۔ مصری صدر نے بدھ کے روز براہ راست نشر ہونے والے ایک بیان میں کہا ہے کہ ''ہم اپنے حقوق سے دستبردار نہیں ہوئے ہیں بلکہ ہم نے دوسروں کے حقوق بحال کیے ہیں۔مصر ریت کے ایک ذرّے سے بھی دستبردار نہیں ہوا ہے''۔ انھوں نے کہا کہ ''تمام دستاویزات اور ڈیٹا اس کے سوا کچھ نہیں کہتے کہ یہ ان (سعودیوں) کا خصوصی حق تھا۔مہربانی فرما کر اب اس موضوع پر مزید گفتگو نہ کی جائے۔آپ کی منتخب کردہ ایک پارلیمان موجود ہے اور وہ اس معاہدے پر بحث کرے گی۔وہ اس کی توثیق کرے گی یا اس کو مسترد کردے گی''۔ عبدالفتاح السیسی نے شکایت آمیز لہجے میں مصریوں کے اپنے لیڈروں پر عدم اعتماد کی عادت کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ اس سے ملک ''قومی خودکشی'' کی جانب گامزن ہے۔انھوں نے مصریوں کو مخاطب کرکے سوال کیا کہ''آپ کو یہ یقین ہی نہیں ہے کہ وزارت خارجہ ،فوج یا انٹیلی جنس ایجنسی میں ایک بھی محب وطن شخص موجود ہے ہے۔آپ کے نزدیک یہ تمام بُرے لوگ ہیں جو اپنے ملک کو بیچنے کو تیار ہیں''۔ مصری حکومت کا مؤقف ہے کہ تزویراتی اہمیت کی حامل آبی گذرگاہ خلیج عقبہ کے جنوبی داخلی راستے پر واقع دونوں جزیرے "تيران"اور"صنافير'' سعودی عرب کے ملکیتی تھے۔اس نے 1950ء میں مصر سے ان جزیروں کے تحفظ کے لیے کہا تھا اور ان پر تب سے مصر کا کنٹرول چلا آرہا تھا۔مصر اور سعودی عرب کے درمیان ہفتے کے روز طے شدہ معاہدے کے تحت اب یہ جزیرے سعودی ملکیت ہیں اور ان کی از سرنو حدبندی کی جارہی ہے۔ یادرہے کہ مصر نے 1967ءمیں آبنائے تیران کو بند کردیا تھا۔اس کے ردعمل میں اسرائیل نے مشرق وسطیٰ میں جنگ چھیڑ دی تھی اور ان دونوں جزیروں پر قبضہ کر لیا تھا۔بعد میں جب 1979ء میں مصر کا اسرائیل کے ساتھ امن معاہدہ طے پایا تھا تو اس نے ان جزیروں کا کنٹرول مصر کے حوالے کردیا تھا۔مصر نے عقبہ اور ایلات میں آزادانہ جہازرانی کے حق کے احترام کا وعدہ کیا تھا۔اب سعودی عرب نے بھی یہی وعدہ کیا ہے کہ وہ ان دونوں جزیروں پر کنٹرول کے بعد بحری جہازوں کی آزادانہ آمد ورفت میں کوئی رکاوٹ نہیں ڈالے گا۔ درایں اثناء آج بدھ کو قاہرہ میں جرنلسٹ یونین کے دفاتر کے باہر کوئی بائیس چوبیس لوگوں نے ان جزیروں کو سعودی عرب کے حوالے کرنے کے خلاف مظاہرہ کیا ہے۔انھوں نے بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر انھیں مصر کا ملکیتی قراردیا گیا تھا۔بعض مصری سوشل میڈیا نیٹ ورکس پر بھی حکومت کے فیصلے کے خلاف اپنے ردعمل کا اظہار کررہے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ وہ صدر کے مؤقف سے متفق نہیں ہیں۔ مصری ناقدین صدر السیسی کو بطور خاص تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں اور انھوں نے آج اپنے اس نشری بیان میں یہ بات تسلیم کی ہے کہ جزیروں کو سعودی عرب کے حوالے کرنے سے متعلق طے کرنے کے لیے خفیہ مذاکرات کیے گئے تھے تاکہ میڈیا کی غیرمطلوب توجہ سے بچا جاسکے۔ بعض ناقدین نے جزیروں کو سعودی عرب کے سپرد کرنے کے معاملے پر ریفرینڈم کرانے کا بھی مطالبہ کیا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ پارلیمان تو صدر عبدالفتاح السیسی کے حامیوں سے بھری پڑی ہے اور جو ارکان شاہ سلمان بن عبدالعزیز کا ڈیسک بجا کر اور بھرپور تالیوں سے خیرمقدم کررہے تھے،وہ کیونکر سعودی عرب کے ساتھ معاہدے کی مخالفت کریں گے۔ صدر السیسی نے اطالوی اسکالر گیلیو ریجینی کے پُراسرار قتل کے بارے میں بھی گفتگو کی ہے اور اس واقعے میں مصر کی سکیورٹی ایجنسیوں کے ملوّث ہونے کی تردید کی ہے۔گیلیو 25 جنوری کو مصر میں صدر حسنی مبارک کی حکومت کے خلاف عوامی انقلاب کی پانچویں سالگرہ کے موقع پر اچانک لاپتا ہوگئے تھے۔اس کے نو روز بعد ان کی لاش ملی تھی اور اس پر تشدد کے نشانات تھے۔