مستقبل قریب میں بھارت کے ساتھ دو طرفہ مذاکرات کی صورت نظر نہیں آرہی: وزیر خارجہ

1 تعبيرية بدھ 11 ستمبر‬‮ 9102 - (صبح 01 بجکر 82 منٹ)

شیئر کریں:

مستقبل قریب میں بھارت کے ساتھ دو طرفہ مذاکرات کی صورت نظر نہیں آرہی: وزیر خارجہ جنیوا: وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ مستقبل قریب میں بھارت کے ساتھ دو طرفہ مذاکرات کی صورت نظر نہیں آرہی، پاکستان اور بھارت میں تیسرے فریق کی طرف سے مصالحت واحد آپشن ہے۔

تفصیلات کے مطابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے سوئس ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں مواصلاتی پابندی سے حقائق سامنے نہیں آرہے۔ عالمی میڈیا اور انسانی حقوق تنظیموں کے کردار کو ضرور سراہوں گا، بہت سے یورپی ممالک صورتحال کی نزاکت کو سمجھتے ہیں۔

وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ یورپی ممالک اپنی سیاسی وجوہات کی بنا پر آواز نہیں اٹھا رہے، بھارت نے 5 اگست کو جو اقدام اٹھائے وہ سب کے لیے حیران کن تھے۔ بھارت میں لوگوں نے اس کو قبول نہیں کیا یہ ان کے قوانین کے منافی تھے۔

انہوں نے کہا کہ بھارتی اقدام اقوام متحدہ کے چارٹر، قرارداروں اور عالمی قوانین کے خلاف تھے، بھارتی اپوزیشن نے اقدامات کے خلاف آواز اٹھائی۔ بھارتی سپریم کورٹ میں بھی رٹ پٹیشنز دائر کی گئیں۔ بھارت کو عالمی قوانین اور اقوام متحدہ کی قرارداروں پر عملدر آمد کرنا ہوگا۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ ہندوستان فوری طور پر مقبوضہ کشمیر سے کرفیو اٹھائے۔ بچے اسکول نہیں جا پا رہے، مریضوں کو طبی سہولتیں میسر نہیں۔ ہماری حکومت نے بھارت کو مذاکرات کی پیشکش کی۔ ہندوستان نے ہماری مذاکرات کی پیشکش پر کوئی مثبت جواب نہیں دیا۔ بھارت کی موجودہ حکومت آر ایس ایس کے ایجنڈے پر عمل پیرا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مستقبل قریب میں دو طرفہ مذاکرات کی صورت نظر نہیں آرہی، ہندوستان بار بار اپنی پوزیشن تبدیل کر رہا ہے۔ پاکستان اور بھارت میں تیسرے فریق کی طرف سے مصالحت واحد آپشن ہے۔

وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ سوئس حکام کی بھارتی رہنماؤں سے ملاقات متوقع ہے، سوئس حکام کا مقبوضہ کشمیر کو ایجنڈے میں شامل کرنا خوش آئند ہے۔ میرے خیال میں امریکا اور طالبان مذاکرات کو بحال ہونا چاہیئے۔ طات چیت سے ہی افغانستان میں امن و استحکام کی امید پیدا ہوگی۔ یہ مذاکرات یقیناً آسان نہیں ہوں گے مگر موقع ملنا چاہیئے۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے خطے میں قیام امن کے لیے مصالحانہ کردار ادا کیا ہے، ہم سمجھتے ہیں ملٹری آپشن افغان مسئلے کا حل نہیں ہے۔ امریکہ نے بھی ہماری بات سے اتفاق کیا ہے۔