غیر ملکی بسکٹ کمپنی کو ’بسکٹ ٹیسٹر‘ کی ضرورت، تنخواہ 84 لاکھ روپے

1 تعبيرية ہفتہ 17 اکتوبر‬‮ 0202 - (شام 6 بجکر 95 منٹ)

شیئر کریں:

غیر ملکی بسکٹ کمپنی کو ’بسکٹ ٹیسٹر‘ کی ضرورت، تنخواہ 84 لاکھ روپے ہر شخص کی خواہش ہوتی ہے کہ اُسے ایسی ملازمت ملے جہاں کام زیادہ محنت سے نہ کرنا پڑے مگر تنخواہ پرکشش دی جائے۔

اگر ملازمتوں کی بات کی جائے تو آپ اپنے ارد گرد ایسے لوگوں کو دیکھتے ہوں گے جو بہت مشقت کرتے ہیں مگر اُن کی دیگر کے مقابلے میں کم ہوتی ہے، اس کے برعکس کچھ ایسے بھی لوگ ہوتے ہیں جو اسمارٹ کام کر کے کم وقت میں زیادہ اچھے پیسے کما لیتے ہیں۔

رپورٹبین الاقوامی میڈیا رپورٹ کے مطابق برطانیہ کی ایک بسکٹ تیار کرنے والی کمپنی نے ایک ایسی ہی ملازمت کی پیش کش کی جس میں کام بظاہر تو کچھ نہیں ہے مگر ملازم کو تنخواہ چالیس ہزار 40 ہزار برطانوی پاؤنڈز  دیے جائیں گے جو پاکستانی کرنسی کے حساب سے 84 لاکھ روپے بنتے ہیں۔

کمپنی نے بتایا کہ اس ملازمت کے لیے کوئی بھی درخواست جمع کراسکتا ہے۔

ملازمت کیا ہوگی؟

بارڈ بسکٹ کمپنی کی جانب سے شائع کردہ ملازمت کے اشتہار میں بتایا گیا ہے کہ ’ماسٹر بسکٹر‘ کی اسامی خالی ہے، خواہش مند شخص کو بسکٹ کھا کر اُس کا ذائقہ چیک کرنا ہوگا اور کمپنی کے معیار کو یقینی بنانا ہوگا جبکہ وہ نئے آئیڈیاز بھی پیش کرے گا۔

کمپنی کے مطابق ملازمت کے اوقات صبح 9 سے شام پانچ بجے تک ہوں گے اور ہفتے میں چالیس گھنٹے کام کرنے کے عوض 40 ہزار پاؤنڈز  سالانہ تنخواہ دی جائے گی۔

ملازمت حاصل کرنے والے شخص کی ڈیوٹی ہوگی کہ وہ ہر پسکٹ کو رگڑ کر دیکھے گا اور اُس کی کوالٹی چیک کرے گا۔

اگر کسی شخص کو بسکٹ کھانے کا شوق ہے اور وہ اس حوالے سے معلومات رکھتا ہے تو وہ بھی ملازمت کا اہل ہے۔

کمپنی نے ملازمت حاصل کرنے والے شخص کے لیے ایک اور آسان شرط رکھی کہ اُس ’بسکٹ کو مزے کا کہنا ہوگا‘۔ تعلیمی اعتبار کی بات کی جائے تو کمپنی نے شعبہ فوڈ سائنسز کی ڈگری یا ہائیر نیشنل ڈپلومہ ہونا شرط رکھی ہے۔

اسکاٹ لینڈ کے علاقے لانارک میں قائم کمپنی میں ملازمت حاصل کرنے والے شخص کو سالانہ 35 چھٹیاں دی جائیں گی جبکہ اُسے بونس میں کمپنی کے شیئرز اور فری بسکٹ دیے جائیں گے۔