ساگو دانہ: درخت کے تنے سے حاصل ہونے والی غذائی جنس

1 تعبيرية جمعہ 8 نومبر‬‮ 9102 - (دوپہر 2 بجکر 01 منٹ)

شیئر کریں:

ساگو دانہ: درخت کے تنے سے حاصل ہونے والی غذائی جنس اکثر بڑے بوڑھے بیماری میں اور صحت یابی کے بعد بھی کچھ دنوں تک ساگو دانہ استعمال کرنے پر زور دیتے ہیں اور ڈاکٹر بھی ایسی ہی ہدایت کرتا ہے کیوں کہ یہ توانائی بخش غذائی جنس ہے۔ ساگودانہ کو ہمارے ہاں اکثر لوگ سابو دانہ بھی کہتے ہیں۔

کچن اور کھانے پکانے کا شوق رکھنے والوں نے تو ساگو دانہ دیکھا ہوا ہو گا، مگر شاید اکثریت کے ذہن میں فورا اس کی کوئی شبیہہ نہ ابھری ہو۔

یہ مشہور غذا ساگو نامی درخت سے حاصل کی جاتی ہے۔ یہ کھجور کے درخت سے مشابہت رکھتا ہے۔ فلیگا نامی جزیرہ ساگو دانہ کی کاشت اور پیداوار کے حوالے سے مشہور ہے۔ حکما اور اطبا نے ساگو دانہ کی افادیت اور بطور غذا اس کے استعمال کی اہمیت کو اجاگر کیا ہے۔

ساگو دانہ دراصل اس درخت کے تنے سے حاصل ہوتا ہے۔ درخت پر پھل آنے سے پہلے اس کا گودا کاٹ کر الگ کر لیا جاتا ہے اور پھر اسے خشک کر کے محفوظ کرتے ہیں۔ یہ گول دانے ہوتے ہیں جو بے بُو اور سفید رنگ کے ہوتے ہیں۔ اس کا ذائقہ پھیکا ہوتا ہے۔ چوں کہ اس کا مزاج گرم تر ہے اس لیے مخصوص مقدار میں اسے خوراک کا حصہ بنانا چاہیے۔

ساگو دانہ سے جسم کو توانائی حاصل ہوتی ہے۔ طبی زبان میں یہ کاربوہائیڈریٹ فراہم کرنے کا اہم ذریعہ ہے۔ اسے دودھ اور پانی میں پکا کر استعمال کیا جاتا ہے۔

ساگو دانہ کے دیگر فوائد میں‌ طبی ماہرین نے معدے کے لیے اس کا مفید ہونا بتایا ہے جب کہ یہ بدن کو فربہ کرتا ہے. بخار، اسہال کے مریضوں کو جسمانی کم زوری دور کرنے اور اپنی توانائی بحال کرنے کے لیے ساگو دانہ ضرور استعمال کرنا چاہیے۔