اقوام متحدہ میں شامی ایلچی نے کیا صریح جھوٹ بولا؟

83 تعبيرية جمعرات 15 دسمبر‬‮ 6102 - (دوپہر 3 بجکر 42 منٹ)

شیئر کریں:

اقوام متحدہ میں شامی ایلچی نے کیا صریح جھوٹ بولا؟ شامی صدر بشارالاسد اور ان کے حاشیہ بردار مصاحبین و اعلیٰ عہدہ دار سنہ 2011ء کے اوائل سے ملک میں جاری خانہ جنگی کے بارے میں کذب بیانی سے تو کام لیتے ہی چلے آرہے ہیں لیکن اقوام متحدہ میں متعیِّن شامی سفیر بشارالجعفری نے ان سب کو حسبِ سابق ایک مرتبہ پھر مات کردیا ہے۔ وہ ماضی میں بھی اقوام متحدہ کے اجلاسوں میں بشارالاسد کے دفاع میں بڑے بڑے جھوٹ بول چکے ہیں لیکن منگل کی شب تو انھوں نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں کمال ڈھیٹ کا مظاہرہ کیا اور پڑوسی ملک عراق کے فوجیوں کی تصاویر پیش کردیں مگر ان کے بارے میں یہ دعویٰ کیا کہ شامی فوجی حلب میں شہریوں کی امداد کر رہے ہیں ۔ ان تصاویر کی حقیقت یہ ہے کہ وہ جنگ سے تباہ حال حلب کی نہیں تھیں بلکہ عراق کی تھیں۔یہ تصاویر گذشتہ سال عراقی اخبارات میں شائع ہوئی تھیں اور ان میں عراقی فوجی کسی جنگ زدہ علاقے میں شہریوں کی مدد کرتے ہوئے دیکھے جاسکتے ہیں۔ بشارالجعفری نے کسی تصدیق کے بغیر ہی یہ دعویٰ کردیا کہ یہ صدر بشارالاسد کے وفادار فوجیوں کی تصاویر ہیں جو حلب میں شہریوں کی مدد کو آئے ہیں۔اس طرح انھوں نے سلامتی کونسل کے رکن ممالک کے نمائندوں کو یہ باور کرانے کی کوشش کی کہ اسدی فوج اپنے شہریوں کے خلاف لڑ نہیں رہی ہے بلکہ ان کی دل جوئی کررہی ہے اور جنگ سے متاثرہ افراد کی مدد کو پہنچ رہی ہے۔ واضح رہے کہ یہ کوئی پہلا موقع نہیں ہے جب بشارالجعفری نے اقوام متحدہ ایسے عالمی فورم پر زمینی حقائق کے صریحاً منافی دعویٰ کیا ہے۔وہ ماضی میں بھی اس طرح کی کذب بیانیوں سے بشارالاسد کی حکومت کی چیرہ دستیوں اور اپنے ہی عوام کے خلاف جبر وتشدد کی کارروائیوں کا دفاع کرتے رہے ہیں۔ان کے ہوتے ہوئے شامی صدر کو کسی اور جوزف گوئبلز کی کیا ضرورت ہے؟