اسرائیل نے لاپتا یمنی یہودی بچوں کی نئی دستاویزات شائع کر دیں

54 تعبيرية ہفتہ 31 دسمبر‬‮ 6102 - (دوپہر 3 بجکر 22 منٹ)

شیئر کریں:

اسرائیل نے لاپتا یمنی یہودی بچوں کی نئی دستاویزات شائع کر دیں اسرائیل نے پہلی بار باضابطہ طور پر سنہ 1948ء میں صہیونی ریاست کے قیام کے دوران یمنی بچوں کے اغواء کی دستاویزات شائع کی ہیں۔ دستاویزات کا افشاء ہزاروں یمنی بچوں کے پراسرار طور پر لا پتا ہونے کے بعد پیدا ہونے والے تنازع ختم کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ اسرائیل کے محکمہ نیشنل آرکائیو نے 2 لاکھ دستاویزات اپنی ویب سائیٹ پر شائع کی ہیں جن میں بتایا گیا ہے کہ قیام اسرائیل کے بعد بڑی تعداد میں یمنی یہودیوں کے بچوں کو بے اولاد یہودی جوڑوں کو دیا گیا تھا۔ خیال رہے کہ انسانی حقوق کی تنظیمیں کئی عشروں سے یمن آنے والے یہودیوں کے بچوں کے اغواء کے تنازع کی تحقیقات کا مطالبہ کرتی آئی ہیں۔ انسانی حقوق گروپوں کا کہنا ہے کہ قیام اسرائیل کے بعد یمن سے اسرائیل منتقل ہونے والے ہزاروں یمنی یہودی خاندانوں کے بچے ان سے چھین لیے گئے تھے جنہیں بعد ازاں مبینہ طور پر مشرقی یورپ سے آنے والے ‘اشکنازی‘ یہودی خاندانوں کو دیا گیا جن کی کوئی اولاد نہیں تھی۔ ڈاکٹروں نے یمنی بچوں کے حقیقی والدین کے سامنے بھی جھوٹ بولا تھا اور کہا تھا کہ ان کے بچے فوت ہوچکے ہیں مگر ان کی میتیں ورثاء کونہیں دی گئی تھیں۔ اسرائیل میں اس معاملے پر سرکاری سطح پر بھی متعدد بار تحقیقاتی کمیشن قائم کیے گئے یہ تمام کمیشن ایک ہی رپورٹ جاری کرتے کہ یمن کے لاپتا ہونے والے بچے پناہ گزین کیمپوں میں رہتے ہوئے طبی سہولیات کے فقدان کے باعث ہلاک ہوگئےتھے۔ ان رپورٹس کے باوجود بچوں کے لواحقین اور انسانی حقوق کے اداروں کے شکوک وشبہات ختم نہیں کیے جا سکے۔ صہیونی ریاست نے پہلے تو اس کیس کو سنہ 2031ء تک صیغہ راز میں رکھنے کا اعلان کیا تھا مگر رواں سال جولائی میں موجودہ وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو نے اس کیس کو دوبارہ کھولنے اور اس کی از سرنو تحقیقات کی یقین دہانی کرائی تھی۔ ایسا پہلی بار ہوا ہے کہ ایسے دو لاکھ افراد کی دستاویزات جاری کی گئی ہیں جوقیام اسرائیل کے دوران جنگ میں لا پتا ہوگئے تھے۔ سنہ 1995ء سے 2001ء کے دوران کی جانے والی تحقیقات کے نتائج میں بھی کہا گیا ہے کہ بیشتر بچے ہلاک ہوگئے تھے مگر بیسیوں کا کوئی پتا نہیں چل سکا ہے۔ نیشنل آرکائیو کا دعویٰ ہے کہ لاپتا افراد سے متعلق مزید خفیہ دستاویزات نہیں۔ ان کے ریکارڈ میں جتنا کچھ تھا وہ سب نشر کردیا ہے۔ ان دستاویزات کے سامنے آنے کے بعد لاپتا ہونے والے یمنی یہودیوں کو اپنے گم شدہ افراد کی شناخت میں مدد ملے گی