جدید سائنس نے فالج کے مریضوں کو جینے کی نئی امنگ دے دی

1015 تعبيرية اتوار 26 فروری‬‮ 7102 - (صبح 6 بجکر 54 منٹ)

شیئر کریں:

جدید سائنس نے فالج کے مریضوں کو جینے کی نئی امنگ دے دی آج سے قبل یہ تصور کیا جاتا تھا کہ فالج سے مکمل طور پرمتاثرہ افراد کے زندہ رہنے یا نہ رہنے سے کوئی فرق نہیں پڑتا‘  لیکن اب جدید سائنس نے اس تصور کی نفی کرتے ہوئے ایسا انقلابی آلہ ایجاد کرلیا ہے جس کی مدد سے فالج سے معذور افراد نہ صرف کمپیوٹر استعمال کرسکیں گے بلکہ اب تیز رفتار ٹائپنگ کرسکیں گے۔ اسٹین فورڈ یونی ورسٹی کی جانب سے جاری کردہ نیوز ویڈیو میں دکھا یا گیا ہے کہ کس طرح دماغ میں نصب شدہ آلے کی مدد سے اب فالج کے مریض بھی تیز رفتاری سے ٹائپ کرسکتے ہیں۔ واضح رہے کہ اس سے پہلے بھی ایسے آلے ایجاد ہوچکے ہیں‘ جن کی مدد سے جسمانی طور پرمعذورافراد کمپیوٹرسے رابطہ کر سکتے ہیں۔ لیکن اس نئے آلے کی بدولت اب یہ مریض تیز رفتار ٹائپنگ کر سکتے ہیں جو اس سے پہلے ممکن نہیں تھا۔ ان مریضوں کے دماغ کے ایک حصے میں (جسے موٹر کارٹیکس کہا جاتا ہے) الیکٹروڈز نصب کیے گئے جو عضلات کو بھیجے جانے والے پیغامات کو ریکارڈ کرتے ہیں۔ ان سگنلز کو ایک تار کے ذریعے کمپیوٹر میں ڈالا جاتا ہے‘ جہاں ایک ایلگورتھم اس سگنلز کو ڈی کوڈ کر کے یہ فیصلہ کرتا ہے کہ مریض کس حرف کو ٹائپ کرنا چاہ رہا ہے۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ کچھ مریض اس ٹیکنالوجی کی بدولت ایک منٹ میں 39 حروف ٹائپ کرنے کے قابل ہوگئے۔ جو کہ ایک نیا ریکارڈ ہے‘ یاد رہے کہ عموماً ایک عام آدمی چالیس الفاظ فی منٹ ٹائپ کرتا ہے‘ جبکہ ٹائپنگ کے ماہر افراد کی رفتار 65 سے 75الفاظ تک ہوتی ہے۔ اس خبر کو لائیک یا شیئر کرنے اور مزید خبروں تک فوری رسائی کے لیے ہمارا اور وزٹ کریں