پی آئی اے میں خواتین پائلٹس کے کوٹے پر عمل درآمد کا حکم

7 تعبيرية جمعرات 5 اپریل‬‮ 8102 - (دوپہر 3 بجکر 74 منٹ)

شیئر کریں:

پی آئی اے میں خواتین پائلٹس کے کوٹے پر عمل درآمد کا حکم لاہور: صوبہ پنجاب کے دارالحکومت میں لاہور ہائیکورٹ نے پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز میں خواتین پائلٹس کے دس فیصد مختص کوٹے پر عمل درآمد کا حکم دے دیا۔

تفصیلات کے مطابق لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس محمد فرخ عرفان خان نے کیس کی سماعت کی۔

درخواست گزار کومل ظفر کی جانب سے مؤقف اختیار کیا گیا کہ پی آئی اے پائلٹس کی بھرتیوں میں خواتین کو پالیسی کے خلاف نظر انداز کیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ پی آئی اے میں پائلٹوں کی بھرتیوں کے لیے دس فیصد کوٹہ خواتین کے لیے مختص ہے۔

انہوں نے بتایا کہ پائلٹس کی بھرتیوں میں خواتین کوٹہ کو مکمل نظر انداز کر دیا گیا جو کہ پی آئی اے پالسی کی سنگین خلاف ورزی ہے۔

درخواست گزار نے استدعا کی کہ عدالت پالیسی کے مطابق خواتین کی مخصوص نشستوں پر بھرتیوں کا عمل مکمل کرنے کے احکامات صادر کرے۔

عدالتی حکم پر پی آئی اے کے ریکروٹمنٹ مینیجر عدالت میں پیش ہوئے اور بتایا کہ خواتین کوٹے پر عمل درآمد کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پی آئی اے میں 2013 خواتین فرائض سر انجام دے رہی ہیں۔ 800 سے زائد خواتین فلائٹ آپریشن فرائض سر انجام دے رہے ہیں۔ پائلٹ ایک حساس جاب ہے جس کے لیے میرٹ نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔

ان کا کہنا تھا کہ معذور افراد کو اسی لیے پائلٹ بھرتی نہیں کیا جاتا جس پر عدالت نے سخت اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا کہ ملک کی آدھی آبادی خواتین پر مشتمل ہے کیا انہیں معذور سمجھا جائے؟ ائیر فورس میں خواتین پائلٹ بھرتی ہو کر جنگی جہاز اڑا رہی ہیں۔

عدالت نے درخواست منظور کرتے ہوئے پی آئی اے میں خواتین پائلٹس کے دس فیصد مختص کوٹے پر عمل درآمد کا حکم دے دیا۔

خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔