میاں صاحب دوستی چھوڑیں کرکٹ بچائیں

133342 تعبيرية جمعرات 24 مارچ‬‮ 6102 - (دوپہر 2 بجکر 53 منٹ)

شیئر کریں:

میاں صاحب دوستی چھوڑیں کرکٹ بچائیں

بھائیوں اتنے اداس کیوں ہو، 2015 میں بھی تو ایسا ہوا تھا، بس کپتان کا چہرہ بدل گیا تب مصباح الحق پر اسی طرح لعن طعن ہو رہی تھی جیسی اب شاہد آفریدی پر جاری ہے، خراب انفرادی کارکردگی نے ناقدین کا کام مزید آسان کر دیا،آسٹریلیا، نیوزی لینڈ میں منعقدہ 50 اوورز کے ورلڈکپ میں کوارٹر فائنل کھیلنے کا  بھی موقع نہ ملا اب بھارت میں ٹی ٹوئنٹی کے عالمی ایونٹ میں بھی فائنل فور میں شامل ہونادشوارہے،اس وقت کسینو جانے والے چیف سلیکٹرمعین خان زیر عتاب آئے تھے اب کھلاڑیوں کی سلیکشن پر جوا کھیلنے والے ہارون رشید کا برطرفی لیٹر تیار ہے۔

بورڈ کو بس انتظار ہے کہ عوامی غصہ کچھ ٹھنڈا کرنے کیلیے کس وقت اس کارڈ کو شو کریں، اس وقت بھی کوچ وقار یونس تھے جنھوں نے سرفراز احمد کے ساتھ کیسا سلوک کیا وہ سب کو یاد ہوگا مگر انھیں عہدے پر برقرار رکھا گیا، اب ٹیم کا تیہ پانچہ کر کے وہ خود آسٹریلیا جانے کا سامان پیک کیے بیٹھے ہیں، البتہ انھیں اطمینان ہو گا کہ ہر ماہ 18لاکھ روپے ماہانہ تنخواہ اور ڈیلی الاؤنس وغیرہ کی مد میں کروڑوں روپے اکاؤنٹ میں بڑھ چکے ہیں،اب کچھ عرصے کمنٹری کروں گا پھر جب یہ بے وقوف شائقین شکست کو بھول جائیں گے تو واپس کوچنگ میں آ جاؤں گا، باہر تو داغدار ماضی کی وجہ سے کوئی  لفٹ کرانے کو تیار ہی نہیں ہے۔

گذشتہ برس بھی چیئرمین شہریارخان ہی تھے جو بیچارے عمر کے اس حصے میں ہیں کہ اب یادداشت بھی ساتھ دینا بھول گئی ہے،اب انھیں آرام کر کے کسی اورکیلیے عہدہ چھوڑ دینا چاہیے، ان کے دور میں ہماری کرکٹ کئی برس پیچھے چلی گئی، نجم سیٹھی نے پی ایس ایل کا اچھے انداز سے انعقاد کرایا مگر اب تک اکاؤنٹس سامنے نہیں آئے کہ ایونٹ سے بورڈ کو کتنا فائدہ ہوا اور اخراجات کتنے ہوئے، وہ کرکٹ کا کوئی تجربہ نہیں رکھتے تھے، انھیں نواز نے کیلیے بورڈ میں لایا گیا مگر عدالتی فیصلے کی وجہ سے چیئرمین کا عہدہ چھوڑ کرنئے انداز سے چیئرمین شپ سنبھال  لی۔

کچھ اچھا ہو تو سیٹھی صاحب کا کریڈٹ برا ہو تو شہریار صاحب ذمہ دار، دونوں کو ہی اب گھر جانا چاہیے، میاں صاحب اگر دوستی ہی نبھانا ہے تو شہریارخان کو کوئی اور کام سونپ دیں جس میں انھیں ہر ہفتے پریس کانفرنس کا موقع بھی ملے تاکہ میڈیا میں آنے کا شوق پورا ہوتے رہے، اسی طرح نجم سیٹھی کو کسی ملک کا سفیر بنا دیں، پی ایس ایل کی فکر نہ کریں کیا للت مودی کے بغیر آئی پی ایل نہیں چل رہی؟اس سے شائقین کو بھی تسلی ہو گی کہ شاید نئے لوگ آ کر کچھ اچھا کریں، قومی ٹیم کو اس حال میں پہنچانے میں حکومت کا بھی بڑا کردار ہے۔

کرکٹ کی مسلسل تباہی کے باوجود کوئی نوٹس نہ لیا گیا، الٹا ہم جیسے لوگ جو حقائق سامنے لے کر آتے ان کا مذاق اڑایا گیا کہ کچھ بھی کر لو ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکتے، ورلڈکپ کے بعد ٹیم بنگلہ دیش میں بری طرح ہاری کچھ نہیں ہوا، بس چند کھلاڑیوں کو ڈراپ کر کے کچھ عرصے بعد واپس لے آئے، رینکنگ میں مسلسل زوال کا کسی نے نوٹس نہ لیا ، شہریارخان بھارت کے ہاتھ جوڑتے رہے کہ سیریز کھیل لو، مگر وہ ٹس سے مس نہ ہوئے، نجم سیٹھی نے تمام تر توانائیاں پی ایس ایل میں جھونک دیں، ایشیا کپ میں ناقص کھیل پر بھی کوئی ہلچل نہ ہوئی، اب ورلڈٹوئنٹی 20 میں بھی اس رسوائی پر قربانی کے بکرے تلاش کیے جا رہے ہیں۔

آپ شاہد آفریدی کو ضرور نکالیں یقیناً ان کی کپتانی اور انفرادی کارکردگی اچھی نہیں رہی، مگر  کیا وہ اس تباہی کے اکیلے ذمہ دار ہیں بالکل نہیں،جب سب جانتے تھے کہ وقار یونس کی کوچنگ میں ٹیم مسلسل ہار رہی تھی تو انھیں کیوں نہیں ہٹایا گیا؟ محمد اکرم اور مشتاق احمد جیسے انگلینڈ پلٹ لوگوں کو کس کے کہنے پر نوازا گیا،وہ کس کھلاڑی کی کارکردگی میں بہتری لے کر آئے؟ گرانٹ فلاور کی سفارش کس نے کی اور انھوں نے کس بیٹسمین کی تکنیک بہتر بنائی؟ آج اگر افغانستان کی ٹیم بڑے بڑے حریفوں کو ٹف ٹائم دے رہی ہے اور جنوبی افریقہ کیخلاف 170سے زائد رنز بنا لیے تو اس کی ایک وجہ انضمام الحق بھی ہیں۔

حیرت ہے بورڈ کو ان جیسی بھاری بھرکم شخصیت نظر نہ آئی، باہر والے کو بلا کر بڑی رقم دے دیں گے اپنوں کو دیتے ہوئے شرم آئے گی، ہارون رشید طویل عرصے سے بورڈ میں ہیں انھیں چیف سلیکٹر بنانے کا کیا فائدہ ہوا، انھوں نے کس اچھے کھلاڑی کو موقع دیا؟ شرجیل، خرم اور سمیع جیسے پٹے ہوئے مہروں کو واپس لاتے وقت ان سے کیوں استفسار نہ کیا گیا، انتخاب عالم جیسے بزرگ جنھیں اب آرام کرنا چاہیے انھیں ڈائریکٹر کے عہدے سے ہٹا کرگھر بھیجنے کے بجائے ٹیم منیجر کیوں بنایا گیا؟ ان سوالات کا کون جواب دے گا ۔

کیا لوگ بے وقوف ہیں انھیں نہیں پتا کہ ڈاؤن سائزنگ کی آڑ میں صرف چند افراد کو نوکری سے نکالا گیا، ذاکرخان کا عمران خان کے دوست ہونے کی وجہ سے کوئی بال بھی بیکا نہیں کر سکتا وہ اب جونیئر ٹیموں کے منیجر بن گئے، باقی ڈائریکٹر والی تنخواہ اور مراعات سے انتخاب عالم کی طرح لطف اندوز ہو رہے ہیں، نیشنل اسٹیڈیم کے پی آر او شعیب احمد جن کی وجہ سے ڈومیسٹک سیزن کی میڈیا میں بھرپور کوریج ہوتی تھی انھیں برطرف کردیا گیا،  مگر میڈیا میں صرف حق میں بیان دینے اور ٹی وی  پروگرامز میں ’’سب اچھا ہے‘‘ بولنے والوں کو شعیب جیسے لوگوں کی سال بھر کی تنخواہ چند ماہ میں ہی دے دینا یہ کہاں کا انصاف ہے۔

دو فائلز بغل میں دبا کر قذافی اسٹیڈیم آنے والے لوگ ٹی وی اینکرز سے سفارشیں کرا کے نوکری بچا لیتے ہیں مگر بیچارہ کوئی غریب ڈرائیور وغیرہ جس کی کوئی جان پہچان نہ ہو اسے فوراً نکال دیا جاتا ہے، ان تمام باتوں کا حساب کون دے گا شہریارصاحب اور سیٹھی صاحب، بورڈ میں جب بدانتظامی ہو گی تو یقیناً ٹیم کی کارکردگی بھی ایسی ہی رہے گی۔

اپنوں کو نوازنے کے چکر میں اسکواڈ کا بیڑا غرق کر دیا گیا، جس وقت یہ سطور تحریر کر رہا ہوں نیوزی لینڈ سے میچ نہیں ہوا مگر مجھے اندازہ ہے کہ اس میں بھی شکست ہو گی، کھلاڑی جیسے ڈرے سہمے لگ رہے ہیں انھیں تو اس وقت افغانستان بھی ہرا دے، میاں صاحب اب تو ایکشن میں آئیں، اب اگر آپ نے کچھ نہ کیا تو پاکستان کرکٹ کی تاریخ آپ کو کبھی معاف نہیں کرے گی۔