نواب حمید اللہ خان: بھوپال کے فرماں روا کے عہد میں شعر و ادب

51 تعبيرية اتوار 26 فروری‬‮ 3202 - (سپہر 5 بجکر 83 منٹ)

شیئر کریں:

نواب حمید اللہ خان: بھوپال کے فرماں روا کے عہد میں شعر و ادب نواب حمید اللہ خاں ریاست بھوپال کے آخری فرماں روا تھے جن کا عہد 1926 سے 1949 تک رہا۔ حمید اللہ خاں روشن خیال حکم راں اور بیدار مغز سیاست دان تھے۔

ان کے عہد میں بھوپال میں‌ شعر و ادب کی محفلیں سجائی جاتی رہیں اور فن و تخلیق کو پروان چڑھنے کا موقع ملا۔ پیشِ‌ نظر تحریر اسی سے متعلق ہے۔

نواب صاحب، صاحبِ علم اور علم نواز تھے۔ انھوں نے اہلِ دانش و فن کی بہتر طور پر سرپرستی فرمائی۔ علمی و ادبی رجحانات میں جو جدت نواب سلطان جہاں بیگم کے زمانے میں نظر آتی تھی، نواب صاحب کے عہد میں اس کی رفتار میں مزید تیزی آئی۔

"ادب برائے زندگی” کا نظریہ کلی طور پر تمام تخلیقات میں نظر آتا ہے۔ شعر و شاعری میں بدستور اصلاحی، مقصدی، اخلاقی اور اجتماعی شعور بیدار ہوتا چلا گیا۔ پامال، فرسودہ اور عامیانہ انداز بیان کا تقریباً اختتام ہو گیا۔ اس دور کی شاعری بھرپور کیف و سرور سے معمور سنجیدہ و متین اور پرتاثیر ہے۔ سچے جذبات کی فراوانی نظر آتی ہے، اسلوب بیان میں ندرت اور تازگی پائی جاتی ہے۔ نئی تشبیہات و نئے استعارات اور نئی تلمیحات وضع کی گئیں۔ ان تمام جدید رجحانات کے ساتھ ادب کو زندگی سے قریب لانے کی کوشش کی جا رہی تھیں۔

ہر سال نواب صاحب کے زیرِ اہتمام جشنِ سال گرہ کے سلسلے میں یہاں آل انڈیا مشاعرے کا انعقاد کیا جاتا تھا۔ جس میں ملک کے نامور شعراء شرکت کرتے تھے جن میں جوش ملیح آبادی، جگر مرادآبادی، فراق گورکھپوری، سیماب اکبرآبادی، حفیظ جالندھری، احسان دانش، نانک لکھنوی، آنند نرائن ملا ، احسن مارہروی ، سراج لکھنوی، شوکت تھانوی، روش صدیقی، ساغر نظامی، آغا حشر کاشمیری، بہزاد لکھنوی، یاس عظیم آبادی خاص طور پر اہمیت رکھتے ہیں۔ یہ مشاعرے بھوپال کے مذاقِ شعری پر بڑی حد تک اثر انداز ہوئے۔

اس دور میں یہاں ترقی پسند ادب کا بھی آغاز ہوا۔ ترقی پسند مصنفین کی باقاعده انجمن بھی قائم ہوئی، اشتراکی نقطۂ نظر اس دور کے نوجوان شعراء و ادباء کی تخلیقات میں داخل ہونا شروع ہوا۔

نواب حمید اللہ خاں کے عہدِ حکومت میں نظامِ تعلیم میں زبردست تبدیلیاں عمل میں آئیں۔ الگزینڈر اور جہانگیریہ ہائی اسکول کا الحاق عثمانیہ یونیورسٹی سے کر دیا گیا۔ جس کی بدولت اردو ذریعۂ تعلیم کو فروغ ملا۔ اس کے علاوہ بے شمار علمی و ادبی اداروں کا قیام عمل میں آیا۔ اخبارات اور رسائل کے اجراء کے لئے بھی یہ دور گذشتہ ادوار سے ممتاز ہے۔ جو رسائل اور اخبارات جاری کئے گئے ان میں گوہرِ ادب ، آفتابِ نسواں، افشاں، افکار، ندیم، جاده، معیارِ ادب اور کردار وغیرہ کافی اہم ہیں۔ ان کے علاوہ الگزینڈر ہائی اسکول سے "گہوارۂ ادب” نام کا ایک معیاری رسالہ جاری کیا گیا۔

نواب صاحب کے ذوق ادب کی بدولت اس عہد میں نشر و اشاعت کا زبردست کام ہوا۔ انھوں نے سلطان جہاں بیگم کی تقاریر کا مجموعہ بھی "خطباتِ سلطانی” کے نام سے طبع کروایا اور اہلِ علم و ہنر کی سرپرستی بھی فرمائی۔ علاّمہ اقبال کو ان کی ادبی خدمات کے سلسلے میں پانچ سو روپے ماہوار کا وظیفہ جاری کیا۔ ریاست کی طرف سے حفیظ جالندھری کو بھی وظیفہ دیا جاتا تھا۔ نواب صاحب کی ان کرم فرمائیوں سے ریاست کا مشاہیر ادب سے گہرا تعلق قائم ہوا۔

ان کے علاوہ نواب حمید اللہ خاں کے عہد میں ایک بڑی تعداد ایسے اہلِ قلم کی تھی جنہیں شہرت اور مقبولیت حاصل تھی اور جنہوں نے شعری و ادبی سرمایہ میں قابلِ قدر اضافہ کیا۔

(از قلم: ارجمند بانو افشاں)