زہرہ بائی آگرے والی

15 تعبيرية پیر 16 جنوری‬‮ 3202 - (سپہر 5 بجکر 84 منٹ)

شیئر کریں:

زہرہ بائی آگرے والی ہندوستان کے مشہور موسیقار گھرانوں سے تعلق رکھنے والے نام ور فن کاروں کے علاوہ یہاں پیشہ ور گلوکاراؤں اور رقاصاؤں کو بھی شہرت حاصل ہوئی جو طوائف اور مغنیہ کہلاتی تھیں۔ یہ عورتیں‌ ہندوستانی فن و ثقافت کا ایک اٹوٹ حصّہ رہی ہیں جنھیں کلاسیکی موسیقی اور ان کی خوب صورت آواز کے علاوہ رقص کی وجہ سے یاد کیا جاتا ہے۔

ایک زمانہ تھا جب یہ گانے بجانے والیاں اپنے اردو اور فارسی زبان و ادب کے عمدہ ذوق کی وجہ سے امرائے وقت اور شرفا کے نزدیک بھی قابلِ احترام تھیں۔ ناچ گانے کو اپنا پیشہ بتانے والی یہ عورتیں انگریزوں کے دور میں ’ڈانس گرل‘ کہلائیں، اور پھر 19 ویں‌ صدی کے آواخر میں‌ سماج میں ان گلوکاراؤں اور رقاصاؤں کو بدکار اور جسم فروش سمجھا جانے لگا، لیکن اس سے قبل انھیں اپنے فن میں کمال اور ذوقِ شعر و ادب کی وجہ سے بہت سراہا بھی جاتا تھا۔ یہ گانے والیاں کتھک، دادرا، غزل اور ٹھمری کے فن میں باکمال ہوئیں اور کلاسیکی موسیقی کو زندہ رکھنے میں بڑا کردار ادا کیا۔

زہرہ بائی کا تعلق آگرہ کے موسیقار گھرانے سے تھا۔ ان کا سنہ پیدائش 1868ء بتایا جاتا ہے۔ زہرہ بائی نے 1913ء میں وفات پائی تھی۔ ان کی زندگی کا بیشتر عرصۂ حیات آگرہ میں بسر ہوا۔ زہرہ بائی 1900ء تک گوہر جان کے ساتھ ہندوستانی کلاسیکی موسیقی میں شہرت یافتہ مغنیہ تھیں جنھوں نے طوائف کی حیثیت سے موسیقی کا آخری دور دیکھا۔

اس مغنیہ نے موسیقی کی تعلیم استاد شیر خان اور استاد کلن خان سے حاصل کی تھی۔ اپنے شہر کی نسبت وہ آگرے والی مشہور ہوئیں۔ وہ امراء اور نوابوں کی دعوت پر ان کے دولت خانوں پر اپنے فن کا مظاہرہ کرتی تھیں اور پٹنہ کے زمین داروں کے یہاں بھی گانے کے لیے مدعو کی جاتی تھیں۔ زہر بائی نے غزل اور ٹھمری کی تعلیم ڈھاکا کے استاد احمد خان سے حاصل کی تھی۔

ہندوستان کی اس مشہور مغنیہ کی خاصیت یہ تھی کہ وہ مردانہ آواز میں بھی گیت گاتی تھیں۔ اس زمانے میں‌ ہندوستان میں گرامو فون ریکارڈ آیا تو انھوں نے بھی گراموفون کمپنی کے لیے اپنی آواز میں‌ موسیقی ریکارڈ کروائی۔ زہرہ بائی نے 1908ء میں گرامو فون کمپنی سے ایک معاہدہ کر لیا تھا جس کے تحت 2500 روپے میں ان کو 25 گیت ریکارڈ کروانے تھے۔ یہ سلسلہ بخوبی چلتا رہا اور 1908ء سے 1911ء تک زہرہ بائی آگرے والی نے 60 گیت ریکارڈ کروائے۔ 1994ء میں زہرہ بائی کے ریکارڈ دوبارہ ترتیب دیے گئے اور انھیں ہندوستانی کلاسیکی موسیقی کے حوالے سے ان کے فن کو سراہا گیا۔

زہرہ بائی نے صرف 45 سال کی عمر پائی اور آگرہ ہی میں انتقال کیا۔