خانہ کعبہ کے دروازوں کی ہزاروں سال قدیم روشن تاریخ

63 تعبيرية پیر 27 فروری‬‮ 3202 - (صبح 11 بجکر 84 منٹ)

شیئر کریں:

خانہ کعبہ کے دروازوں کی ہزاروں سال قدیم روشن تاریخ مسلمانوں کے مقدس ترین مقام خانہ کعبہ روئے زمین پر قائم کیا جانے والا پہلا خانہ خدا تھا اس کے ابواب یعنی دروازوں کی تاریخ بھی ہزاروں برس پرانی ہے۔

کعبۃ اللہ کو جب رب العالمین کے حکم پر حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام نے اپنے صاحبزادے حضرت اسماعیل ذبیح اللہ کے ساتھ مل کر مکۃ المکرمہ کی پاک سرزمین پر بنایا تو اس وقت نہ اس کی چھت تھی نہ ہی اس کا کوئی دروازہ تھا تاہم گزشتہ 5 ہزار سال کی دستیاب تاریخ کےے مطابق خانہ کعبہ کے اب تک 6 بار دروازے تبدیل کیے جا چکے ہیں۔ ہمیں آج جو خانہ کعبہ پر نصب دروازہ نظر آتا ہے وہ شاہ خالد بن عبدالعزیز کے دور حکمرانی میں نصب کیا گیا تھا اور اس کو احمد بن ابراہیم بدر نامی شخص نے تیار کیا تھا۔

باب کعبہ دنیا جس کا طواف کرتی ہے:

ابواب کعبہ زمین پر موجود کسی عمارت کے سب سے پرانے دروازے ہیں۔ خانہ کعبہ کے پرانے دروازے آج بھی سعودی عرب کے قومی ثقافتی ورثے میں محفوظ ہیں اور سعودی عرب کی شان دار تاریخ، ثقافت اور تہذیب کی علامت سمجھے جاتے ہیں۔

آج بھی خانہ کعبہ کے ان دیرینہ دروازوں کا دنیا طواف کرتی ہے۔ حال ہی میں ابوظہبی میں لوور میوزیم (Louvre Museum) میں دیگر تاریخی اور نادرو نایاب اشیاء کے ساتھ باب کعبہ بھی نمائش کے لیے پیش کیا گیا۔

آئیے ہزاروں برس قبل کے دور میں چلتے ہیں اور ابواب کعبہ کی پاکیزہ تاریخ پر ایک نظر ڈالتے ہیں۔

خانہ کعبہ کا پہلا دروازہ:

مورخین کے مطابق خانہ کعبہ کا سب سے پہلا دروازہ ’تبع‘ نامی بادشاہ نے لگایا تھا۔ سیرت ابن ہشام کے مطابق یہ واقعہ بعثت نبوی ﷺ سے بھی صدیوں پہلے کا ہے۔

الارزوقی نے اخبار مکہ میں ابن جریر کے حوالے سے بیان کیا ہے کہ تبع ہی وہ پہلے بادشاہ تھے جنہوں‌ نے خانہ کعبہ کو پاک صاف کیا اور اس کا دروازہ بنا کر اس میں نصب کرایا۔ اس کی چابی تیار کی، اس پر غلاف چڑھایا اور اپنی اولاد جرہم کو بھی اس کی وصیت کی۔

خانہ کعبہ کا دوسرا دروازہ:

مورخین کے مطابق تبع بادشاہ کا تیار کردہ بابِ کعبہ لکڑی سے بنایا گیا تھا جو پورے دور جاہلیت میں موجود رہا۔ بعثت نبوی ﷺ اور عہد اسلامی کے ابتدائی دور میں یہی دروازہ خانہ کعبہ کی زینت بنا رہا جس کے بعد 64 ھ میں اسے حضرت عبداللہ بن زبیر کے دور میں تبدیل کیا گیا۔ انہوں نے 11 ہاتھ لمبا بابِ کعبہ تیار کیا جسے خانہ کعبہ میں نصب کیا گیا۔

خانہ کعبہ کا تیسرا دروازہ:

تاریخ کے اوراق بتاتے ہیں کہ خانہ خدا میں تیسرا دروازہ حجاج بن یوسف نے لگایا اور عبداللہ بن زبیر کے دور میں نصب باب کعبہ کو تبدیل کرکے دوبارہ 6 ہاتھ والا دروازہ نصب کیا گیا۔

خانہ کعبہ کا چوتھا دروازہ:

کعبۃ اللہ میں چوتھا دروازہ لگانے کا شرف خلافت عثمانیہ کے بادشاہ مراد چہارم کو حاصل ہوا۔ ان کے دور میں 1045 سن ہجری میں باب کعبہ کو تبدیل کیا گیا جو لگ بھگ تین صدیوں تک نصب رہا۔ اس دروازے کی خاص بات اس پر چاندی کی قلعی اور 200 رتل سونا استعمال کیا گیا۔ یہ خانہ کعبہ کا پہلا دروازہ تھا جس پر قلعی کاری کی گئی تھی۔

اس دروازے کے دو پاٹ تھے جن پر تاریخی فن تعمیر کے نقش ونگار بنائے گئے تھے اور اس کی تیاری میں دھاتی پلیٹوں کا بھی استعمال کیا گیا تھا۔ یہ دروازہ خانہ کعبہ کی مشرقی دیوار پر مسلسل 300 سال سے کچھ زائد عرصے تک حجاج و معتمرین کا استقبال کرتا رہا۔

خانہ کعبہ کا پانچواں دروازہ:

سعودی عرب میں آل سعود کی حکمرانی قائم ہونے کے بعد سعودی سلطنت کے بانی شاہ عبدالعزیز آل سعود نے 1363 ھ میں نیا دروازہ تعمیر کرایا اور اس کی تعمیر میں ذاتی دلچسپی لی۔ شاہ عبدالعزیز کے حکم پر خانہ کعبہ کے لیے نیا دروازہ 3 سال کی مسلسل محنت سے تیار کیا گیا۔ اس کی بنیاد فولاد سے بنائی گئی، اس دو پاٹ پر مشتمل لکڑی سے تیار کردہ دروازے پر سونے اور چاندی کی ملمع کاری کی گئی۔

خانہ کعبہ کا چھٹا دروازہ:

آج ہمیں بیت اللہ پر نصب جو دروازہ نظر آتا ہے وہ شاہ خالد بن عبدالعزیز کے حکم پر احمد بن ابراہیم بدر نے ایک سال کی مسلسل محنت کے بعد تیار کیا تھا اور اسے 1398 ہجری میں خانہ کعبہ کی زینت بنایا گیا۔ اس کی تیاری میں 280 کلوگرام سونے کے ساتھ ساتھ 10 لاکھ 43 ہزار 20 ریال خرچ ہوئے۔